Posts

منافق کی نشانیاں

  منافق کی نشانیاں صحيح البخاري:340 الإيمان، صحيح مسلم:58 الإيمان . ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چار خصلتیں ہیں ، جس شخص میں وہ پائی جائیں گی وہ خالص منافق ہوگا ، اور جس کے اندر ان میں سےکوئی ایک خصلت ہوگی اس میں نفاق کی ایک خصلت پائی جائے گی حتی کہ اسے ترک کردے ، [ وہ خصلتیں یہ ہیں ] جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے ، جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے ، جب کوئی عہد کرے تو بے وفائی کرے اور جب جھگڑا کرے تو ناحق چلے ۔ { بخاری و مسلم } ۔ احادیث مبارکہ میں ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ قَالَ: آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَـلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ. وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ. ’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ بات کرے تو جھوٹ بولے گا۔ وعدہ کرے گا تو خلاف ورزی کرے گا اور امانت اس کے پاس رکھی جائے تو خیانت کرے گا۔‘‘ بخاري، الصحيح، 1: 21، رقم: 33، بيروت، لبنان: دار ابن کثير اليمامة مسل...

Signs of hypocrisy

  Signs of hypocrisy About Abdullah bin Amr that the Prophet (pbuh) said that four of those who were in him were pure hypocrites and those in it had a lock of hypocrisy to let it go if khan was believed, if there was a lie, if he knew treachery, and if he knew treachery, then he would bea heaver, and if he would be a one-off, then he would be a failure. True Bukhari:340 Faith, True Muslim:58Faith. The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said: There are four things, the person in whom she will be found will be pure hypocrites, and one of them will have a good quality of good, even if he is given a gift. And when he speaks , lie . When he make a covenant , he will be unfaithful , and when he quarrels , he shall be wrong . { Bukhari and Muslim } The Ahadith is in mubarak: About Abu Hurra, about the Prophet, he said: The verse of the hypocrite is three: if a liar occurs. And if he promises to succeed, and if Khan is entrusted. The Prophet (peace and bless...

قرآن میں نتیجہ خیزی کی ضمانت اور امیت صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلّم .

  قرآن میں نتیجہ خیزی کی ضمانت اور امیت صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلّم . قرآن کریم اللہ رب العزت کا لاریب کلام ہے-یہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور انسان کے ذاتی،اخلاقی،سماجی،معاشرتی،معاشی،قانونی اور زندگی کے دیگر پہلوؤں پر رہنمائی فراہم کرتا ہے-انسان کی پیدائش اور اس کائنات کی پیدائش،یہ ایسے موضوعات ہیں جو فلسفیوں، سائنس دانوں،مذہبی دانشوروں سمیت مختلف شعبہ جات میں انسان کے ہاں ہمیشہ سے مقبول رہے ہیں-جدید دور میں علم کے دیگر شعبہ جات کے مقابلے میں سائنس کو زیادہ پذیرائی ملی ہے اور سائنسی بنیادو ں پر مرتب ہونے والے اس کے انکشافات بہت حد تک  قابلِ بھروسہ سمجھے جاتے ہیں-اگرچہ ہر دور میں سائنس ارتقاء پذیر رہتی ہے جس کے سبب  بسا اوقات اس کے انکشافات میں بڑے پیمانے پر تبدیلی واقع ہوتی ہے تاہم اس سے توقع کی جاتی ہے کہ یہ کائنات کے چھپے ہوئے گوشوں سے پردہ اٹھاتی رہے  اور بے شمار زیرِ بحث سوالات کا تسلی بخش اور تجربات و مشاہدات پر مبنی جوابات دے-اگرچہ یہ تجربات بذاتِ خود بھی ارتقاء پذیر بلکہ ’’غیر دوامی و غیر مستقل‘‘ رہتے ہیں - انسان اور کائنات کی تخلیق کے متعلق بھی عصرِ حاضر...

Literary and terminological research of Ijtihad

  The word ijtihad is not used in the Qur'an, but modern thinkers deduce or ijtihad from this verse of the Qur'an. The Qur'anic injunction is: "We show the way to those who strive." In which the book and wisdom are described as the gift of God, in one place wisdom is said to be good. The Holy Quran also said that my verses are for the thinkers. Literary    and terminological research of  Ijtihad  The word ijtihad is derived from jihad. The literal meaning of jihad is to strive. Jihad is also derived from jihad. Mujahid, mujtahid and mujaddid are also derived from jihad. If so, the solution should be explained according to the requirements of the time, which is not in conflict with the spirit of Islam, but in accordance with the spirit of Islam. Ijtihad does not apply to Muslims. Or not read.  Instead of five daily prayers, prayers should be offered only twice a day keeping in view the busy schedule.  This is not possible because the five daily prayers ...

اجتہاد سے کیا مراد ہے؟

  اجتہاد قرآن مجید میں اجتہاد کا لفظ استعمال نہیں ہوا لیکن مفکرین جدید قرآن مجید کی اس آیت سے استنباط یا اجتہاد کرتے ہیں ارشاد قرآنی ہے۔’’جو جہد کرتے ہیں ہم انہیں اپنا رستہ دکھاتے ہیں‘‘۔اسی طرح سورۂ بقرہ میں ارشاد ہوتا ہے جس میں کتاب اور حکمت کو عطیہ پروردگار بیان کیا گیا ایک مقام پر حکمت کو خیر کثیر کہا گیا قرآن مجید نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ میری آیات مفکرین کیلئے ہیں اہل علم و دانش کا بلند مرتبہ بھی درج قرآن ہے۔ اجتہاد کی لغوی   و اصطلاحی تحقیق  اجتہاد کا لفظ جہد سے ہے جہد کے لغوی معنی کوشش کرنے کے ہیں جہد ہی سے جہاد بھی ہے مجاہد، مجتہد اور مجدد بھی جہد سے ماخوذ ہیں اجتہاد سے یہ مراد لی جاتی ہے کہ کوئی ایسا مسئلہ جو قرآن و سنت یا حدیث میں مذکور نہ ہو تو زمانے کے تقاضوں کے مطابق اس کا حل بتایا جائے جو روح اسلام سے متصادم نہ ہو بلکہ روح اسلام کے عین مطابق ہو، اجتہاد مسلمات پر نہیں ہوتا مثلاً قرآن مجید میں نماز پڑھنے کا حکم ہے اس پر اجتہاد نہیں ہوسکتا کہ نماز پڑھی جائے یا نہ پڑھی جائے۔ نماز پنجگانہ کی بجائے مصروفیت زمانہ کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف دن میں دوبا...

متکلمین کے عقائد

  قدریہ کا عقیدہ قدریہ فرقے کے لوگ خدا کی حکمت سے منکر ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ کام کرنے نہ کرنے، کھانا کھانے یا نہ کھانے اور خیر و شر میں خدا کا ارادہ شامل نہیں ہوتا بلکہ انسان خود مختار ہے جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے وجہ تسمیہ فرقہ قدریہ کی وجہ تسمیہ کے بارے میں محققین مختلف الرائے ہیں لیکن انہیں قدریہ کہنے کی صحیح وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ خدا سے تقدیر کی نفی کرکے اسے بندے کے لیے ثابت کرتے ہیں۔ ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ہر چیز انسان کے ارادہ و قدرت کے تابع ہے، گویا انسان اپنی تقدیر خود بناتا ہے۔ بانی عقیدہ عقیدہ انکار تقدیر کے سرخیل، معبد جہنی اور غیلان دمشقی نامی دو اشخاص تھے۔ اول الذکر نے عراق اور ثانی الذکر نے دمشق کو اپنی دعوت و تبلیغ کا مرکز بنایا۔ عبد الرحمن بن اشعث کی بغاوت جب ناکام ہو گئی (اس بغاوت مین معبد برابر کا شریک تھا) تو حجاج نے معبد کو قتل کر دیا۔ غیلان عرصہ دراز تک شام میں اپنے عقائد کی اشاعت میں سرگرم رہا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز اور اس کے درمیان متعدد تحریری مناظرے بھی ہوئے جس سے متاثر ہو کر غیلان نے اپنے عقائد کی تبلیغ بند کردی۔ مگر خلیفہ مذکور ک...