Posts

علمائے حق اور جد و جہد پاکستان

  علمائے حق اور پاکستان پاکستان ایک آزاد مملکت ہے جو دو قومی نظریہ کے تحت وجود میں آئی   دوقومی نظریہ کی بنیاد   سب سے پہلے سر سید احمد   نے رکھی ،بعد آزاں علمہ محمد اقبال کی ہمدردی اور مسلمان ہونے کے ناطے   دو قومی نظریہ کے تحت    مسلمانوں کے لئے الگ ریاست کا تصور پیش کیا   یوں قائدا عظم محمد علی جناح کی انتھک جدوجہد و محنت اور قدرتی صلاحیت کی وجہ سے بلآخر 14اگست1947ء ،27 رمضان المبارک کو پاکستان دنیا کہ نقشہ پر ابھرا ۔ ہندوستان میں تحریک آزادی سے لے کر قیام پاکستان تک علماء حق نے جو کردار ادا کیا ہے وہ تاریخ کا ایک درخشندہ باب ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے تاریکیوں کے ہجوم میں روشنیوں کا مینارہ ہے تحریک پاکستان کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں مشائخ عظام و علمائے کرام کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ برصغیر کی مختلف خانقاہوں سے وابستہ مشائخ عظام نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کا بھر پور ساتھ دیا تھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ کفر و شرک کا گڑھ ہندوستان میں کلمہ طیبہ کی بنیاد پر پاکستان کا قیام اولیائے کرام کی صدیوں پر محیط ریاضتوں کا ثمر شیریں ہے تو مبالغہ نہ ہو...

کورونا وائرس کی دوسری لہر؟ سپین میں دوبارہ لاک ڈاﺅن، یورپی ممالک میں کیسز پھر سے بڑھنے لگے

  یورپ میں کورونا وائرس ایک بار پھر تیزی دکھانے لگا ہے جسے ماہرین کی طرف سے وائرس کا ممکنہ طور پر دوسرا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق سپین میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد ایک بار پھر بڑھنے سے دوبارہ لاک ڈا ﺅ ن کر دیا گیا ہے۔ یونان اور جرمنی میں بھی وائرس کے کیسز اور اموات میں تیزی آ گئی ہے اور فرانس کے متعلق بھی ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔   رپورٹ کے مطابق جرمنی کی ڈاکٹرز یونین کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ”لوگوں نے سماجی رابطے کی پابندی ختم کر دی ہے جس کی وجہ سے کورونا وائرس کی دوسری لہر شروع ہو گئی ہے اور آئندہ دنوں میں صورتحال زیادہ سنگین ہو سکتی ہے۔ “ یونان میں گزشتہ روز وائرس کے 121نئے مریض سامنے آئے جو 22اپریل کے بعد ایک ہی دن میں ریکارڈ تعداد ہے۔سپین میں اس ویک اینڈ پر مریضوں کی تعداد میں ساڑھے 8ہزار کا اضافہ ہوا ہے۔ اٹلی میں بھی وائرس کے پھیلا ﺅ میں تیزی آ رہی ہے اور روم کی بندرگاہ پر دو بحری جہازوں کو بھی روک دیا گیا ہے جن میں سوار سینکڑوں لوگ کورونا وائرس کا شکار ہیں۔ ان لوگوں کو اترنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ...

انسان کی عظمت اور فضیلت

  انسان کی تخلیق و عظمت اللہ تعالی تمام انسانیت کا خالق ومالک   اور پرور دگار ہے ۔ اس کا نظام ِ ربوبیت کائنات کے ہر ہر وجود کی انتہا ئی سادہ اور پست ترین حالت سے اٹھا کر درجہ بدرجہ منتہا ئے کمال تک پہچا رہا ہے۔اس نے چاہا کہ میں پہچانا جاوں چنانچہ اس نے امر   کن   سے یہ بسیط و عریض کائنات اور اس میں   موجود مختلف   جہان پیدا فرمائے ۔آسمان تخلیق کئے ، ان کو بلندیاں عطا کیں۔فضائی طبقات بنائیں ، انہیں وسعتیں عطاکیں ۔ناپیداکنا رسمند ربنائے ،انہیں تموج عطاکیا ۔پہاڑ بنائے ،انہیں ہیبت وجلال   سے نوازا ۔غرضیکہ ہر ذی روح اور بے روح کو وجود عطاکیا۔ اور اس میں   اپنی صفات و کمالات   اور حسن و جمال   کے ساتھ کسی نہ کسی پہلو کا عکس اتار دیا ۔ ارشاد باری   تعالی ہے سنریہم ایاتنا فی الافاق وفی انفسھم حتی یتبین لھم انہ الحق ہم عنقریب انہیں اپنی نشانیاں اطراف عالم میں اور خود ان کی ذاتوں میں دکھا دیں گے یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ وہی حق ہے ۔ اللہ عزوجل نے کائناتِ پست و بالا میں ہر سو اپنے حسن و جمال کے جلوے بکیھر دئیے اور بزم ہستی ...

کامیاب انسان کیسے بنا جاسکتا ہے!

Image
کامیاب کیسے بنا جاسکتا ہے ! آج کل معاشرے میں ہر چیز تعمیر ہورہی ہے۔اگر ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائے تو جگہ جگہ سڑکیں،پُل،عمارتیں یا مختلف قسم کے مکانات تعمیر کیےجارہے ہیں لیکن ایک چیز جس کی تعمیر ہم بہت کم دیکھتے ہیں وہ شخصیت کی تعمیر ہے۔انسان وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کرتا جارہا ہے-اُس نے پرندوں کی طرح اُڑنا اور مچھلی کی طرح سمندروں میں تیرنا سیکھ لیا ہے مگر زمین پر انسان بن کر رہنا نہیں سیکھا۔ شخصیت سادہ الفاظ میں انسان کی ظاہری و باطنی اور اکتسابی و غیر اکتسابی خصوصیات کا مجموعہ ہے۔کبھی کبھی یہ خصوصیات مستقل رہتی ہیں اور  اکثر اوقات ان خصوصیات میں تبدیلی آتی رہتی ہے اور یہی خصوصیات ایک انسان کو دوسرے انسان سے مختلف رکھتی ہیں۔ مثبت شخصیت کی تعمیر میں صبر کی حیثیت اور اہمیت گویا عمارت میں ایک ستون کی طرح ہے جیسے ایک عمارت بغیر ستونوں کے تعمیر نہیں ہوسکتی اِسی طرح شخصیت صبروتحمل کے بغیر تعمیر نہیں ہو سکتی۔ تعمیرِ شخصیت کے بنیادی اصول جن پر انسان عمل کرکے اپنی شخصیت کو سنوار سکتا ہے اور بہت سے لوگوں میں اُس کی شخصیت نمایہ لگتی ہے مندرجہ ذیل بیان کی گئی ہیں۔ انسان کی زندگی می...

قوم کی ترقی کیسے ممکن ہے ؟؟؟

Image
قوم کی ترقی کیسے ممکن ہے ؟؟؟ 1919 سے 1932 تک جرمنی میں اتحادی حکومتوں کا ایک سلسہ جاری جاری رہا۔ یہ جرمن تاریخ کا وہ دور تھا جس میں اس کا نام ویمر ریپبلک تھا۔ اس وقفے کے دوران کوئی بھی واحد سیاسی پارٹی پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔ اقتصادی پالیسیوں پرعدم اتفاق اور بائیں اور دائیں بازو کی پارٹیوں کے درمیان بڑھتی سیاسی مرکزیت نے ایک کام کرنے کے قبل اتحاد کو نہیں بننے دیا۔ اس کے بجائے جون 1930 کے بعد چانسلروں کے ایک سلسلے نے ضروری پارلیمانی اکثریت کی تلاش کی ضرورت کو ختم کر دیا۔ انہوں نے جرمن آئین کے ہنگامی حالات سے متعلق قانون (آرٹیکل 48) میں، جسے بے چینی کے دور میں جمہوریت کو برقرار رکھنے میں مدد کیلئے تیار کیا گیا تھا، تحریف و ترمیم کی جس کے تحت یہ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر صدارتی حکم کے تحت آ گیا۔ اس حکومتی ڈھانچے نے اقتصادیات اور پارلیمانی نظام کو استحکام بخشا اورعارضی طور پر خانہ جنگی بند ہو گئی۔ عدم استحکام کے دور میں نازی پارٹی کہیں اندھیرے سے نکل کر قومی سطح پر مشہور ہوئی۔ نازی پارٹی نے ویمر "نظام" کی بدعنوانی اور بے اثر پذیری کے خلاف خود کو...