متکلمین کے عقائد

 قدریہ کا عقیدہ

قدریہ فرقے کے لوگ خدا کی حکمت سے منکر ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ کام کرنے نہ کرنے، کھانا کھانے یا نہ کھانے اور خیر و شر میں خدا کا ارادہ شامل نہیں ہوتا بلکہ انسان خود مختار ہے جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے

وجہ تسمیہ

فرقہ قدریہ کی وجہ تسمیہ کے بارے میں محققین مختلف الرائے ہیں لیکن انہیں قدریہ کہنے کی صحیح وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ خدا سے تقدیر کی نفی کرکے اسے بندے کے لیے ثابت کرتے ہیں۔ ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ہر چیز انسان کے ارادہ و قدرت کے تابع ہے، گویا انسان اپنی تقدیر خود بناتا ہے۔

بانی عقیدہ

عقیدہ انکار تقدیر کے سرخیل، معبد جہنی اور غیلان دمشقی نامی دو اشخاص تھے۔ اول الذکر نے عراق اور ثانی الذکر نے دمشق کو اپنی دعوت و تبلیغ کا مرکز بنایا۔ عبد الرحمن بن اشعث کی بغاوت جب ناکام ہو گئی (اس بغاوت مین معبد برابر کا شریک تھا) تو حجاج نے معبد کو قتل کر دیا۔ غیلان عرصہ دراز تک شام میں اپنے عقائد کی اشاعت میں سرگرم رہا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز اور اس کے درمیان متعدد تحریری مناظرے بھی ہوئے جس سے متاثر ہو کر غیلان نے اپنے عقائد کی تبلیغ بند کردی۔ مگر خلیفہ مذکور کے انتقال کے بعد وہ پھر قدری عقائد کی دعوت دینے لگا۔ یہاں تک خلیفہ ہشام بن عبد الملک نے اس کے فتنہ کو روکنے کے لیے فقیہ شام امام اوزاعی سے اس کا مناظرہ کرایا تاکہ اس کے قتل کیے جانے کی دلیل ہاتھ آسکے۔ مناقب الاوزاعی میں اس مناظرہ کی پوری تفصیلات نقل کرنے کے بعد مذکور ہے کہ امام موصوف نے اس مناظرہ میں غیلان کو دلائل قاطعہ سے خاموش کر دیا۔ بعض محققوں نے لکھا ہے کہ غیلان نے امام اوزاعی کا ترکی بہ ترکی مدلل و مسکت جواب دیا اور مناظرہ بالکل برابر اور ہم پلہ تھا مگر اس کا مقصد تو صرف بہانہ قتل کی تلاش تھی اس لیے ہشام نے اسے قتل کرادیا۔

جہمیہ

اس فرقے کا بانی جہم بن  صفوان تھا ان کا عقیدہ تھا کہ انسان اپنے افعال میں مجبور محض ہے نہ اس میں قدرت پائی جاتی ہے نہ ارادہ اور نہ اختیار ۔(جمادات کی طرح کوئی قدرت نہیں رکھتے)ہر چیز اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ نے انسان کو جبرا گناہو ں پر لگا رکھا ہے۔ ایمان کے بارے میں اس کا عقیدہ تھا کہ ایمان صرف معرفت کا نام ہے جو یہودی نبی ﷺ کے اوصاف سے با خبر ہیں وہ مومن ہیں یہ فرقہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا منکر تھا۔ یہ کہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو ان اوصاف سے متصف نہیں کیا جا سکتا جن کا اطلاق مخلوق پر ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کا انکار کرنا توحید ہے۔ جنت و دوزخ میں لوگوں کو داخل کر کے فنا کر دیا جائےگااس کے بعد فقط اللہ کی ذات باقی رہے گی۔

جہمیہ کے عقائد

فرقہ جہمیہ کے چند اصولی اور بنیادی عقائد کا ذکر کیا جاتا ہے جو اہل سنت کے عقائد سے الگ ہیں ۔

·         (1) ایمان صرف معرفت قلب کا نام ہے اگر وہ حاصل ہے تو انکار لسان کے باوجود بندہ کامل الایمان ہے ۔

·         (2) ایمان کے بعد اعمال صالحہ کی کوئی ضرورت نہیں اور افعال سیۂ سے بھی ایمان متا ثر نہیں ہوتا ۔

·         (3) تمام افعال کا اللہ تعالیٰ ہی خالق ہے ۔

·         (4) بندہ مجبور محض ہے اسے کوئی اختیار نہیں ۔

·         (5) کلام اللہ حادث اور مخلوق ہے ۔

·         (6) اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی چیز قدیم نہیں ۔

·         (7) رؤیت باری تعالیٰ محال اور قطعا نا ممکن ہے ۔

·         (8) انبیا اور ان کے امتیوں کا ایمان یکساں اور ایک درجہ کا ہے اس میں کوئی تفاوت نہیں ۔

·         (9) اللہ تعالیٰ کا علم حادث ہے کسی چیز کے وجود اور اس کی خلقت سے پہلے اللہ کو اس کا علم نہیں ہوتا ۔

·         (10) جنت اور جہنم کو ان کے مستحقین کے داخل ہو نے کے بعد فنا کر دیا جائیگا قرآن کریم وحدیث میں خالدین وغیرہ جیسے الفاظ کثرت کے معنیٰ میں وارد ہوئی ہیں ۔

·         (11) اللہ کو کسی ایسی صفت کے ساتھ متصف کرنا جائز نہیں جو بندوں میں پائی جاتی ہو یہی وجہ ہے کہ جہمیہ نے اللہ تعالیٰ کے حی اور عالم ہو نے کا انکار کر دیا کیونکہ یہ بندوں کے بھی اوصاف ہیں اور اللہ تعالیٰ کو صرف فاعل وقادر قراردیا کیونکہ یہ بندوں کے اوصاف نہیں ہیں ۔

·         (12) جہمیہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کا صراحتا انکار کرتے ہیں ۔

·         (13) معتزلہ کی طرح یہ بھی ہر اس غیبی خارق عادت ثابت شدہ امر کا ناکار کرتے ہیں جو ان کی عقل سے با ہر ہو ۔

·         (14) باری تعالیٰ کے لیے تحیز با لمکان کے قائل ہیں۔

روافض

رافضی کے معنی تتر بتر ہونا، بکھر جانا، منتشر ہونا اور تعصب برتنا ہے۔ انہی معنوں میں اہل تشیع میں سے جو لوگ اپنے امام کو چھوڑ دیں اور منتشر ہوں انہیں رافضی کہا جاتا ہے۔

·         قاضی سلیمان منصورپوری لکھتے ہیں جب زید الشہید کے مقابلے میں یوسف ثقفی لشکر لایا تو یہ سب لوگ امام کو چھوڑ کر بھاگ گئے تو زید شہید نے فرمایا رفضونا الیوم تو اس دن سے شیعہ کا نام رافضی پڑا

·         جب اہل عراق نے زین العابدین کے صاحبزادے امام زید شہید سے ابوبکر و عمر کی تعریف سنی تو کہنے لگے آپ ہمارے امام نہیں ہیں امام بھی ہمارے ہاتھ سے گیا جس پر امام زیدشہید نے کہارفضونا الیوم ہمیں آج کے دن سے ان لوگوں نے چھوڑ دیا(آج سے یہ رافضی بن گئے) اس دن سے اس جماعت کو رافضی کہا جاتا ہے۔

·         اسلام کی تاریخ میں رافضہ یا رافضی ان لوگوں کو کہتے ہیں جن کا خیال ہے کہ رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خلافت حضرت علی کے سپرد کرنے کی قطعی اور صریح وصیت کی تھی۔ اس لیے پہلے تین خلفاء اور ان کی حمایت کرنے والے صحابہ و تابعین غلطی پر تھے اور نفاق کا شکار تھے اور اس وصیت کو چھپانے والے مسلمان بھی گمراہ تھے۔ اس عقیدہ کو رافضیت کہا جاتا ہے۔ اس فرقے کا یہ عقیدہ بقیہ امامیہ فرقوں میں سے شیعہ عقائد کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ اور اسی بنا پر بعض لوگ نادانستگی میں اہل تشیع کو بھی رافضہ کہہ دیتے ہیں۔

·         الاعشری کے قول کے مطابق سب سے پہلے وہ لوگ جو رافضی کہلائے جنہوں نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ بعض لوگوں کے نزدیک عبداللہ بن سبا کے ساتھ سب سے پہلے رافضی کہلائے لیکن بعد ازاں مخالفین شیعوں کو رافضی کے ناخوشگوار لقب سے پکارنے لگے۔

·         الاعشری نے روافض، زیدیہ اور غلات کا ایک ساتھ ذکر کیا ہے۔

·         طبری نے لکھا ہے کہ یہ لقب کوفہ کے زیدیوں کو ملا کیونکہ انہوں نے زید بن علی کو چھوڑ دیا تھا اس لیے کہ انہوں نے حضرت ابوبکر و عمر کی مذمت نہیں کی تھی۔ رافضی کے لغوی معنی چھوڑنے والا، ترک کرنے والا ۔

·         ایک اور روایت کے مطابق رافضی ان کم بختوں کو کہا جاتا ہے جنہوں نے بعد از نبوت خلفائے راشدین شہید کرنے کے منصوبہ بنائے تھے۔ اور ان میں سے بعض اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوئے۔ مثلا حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی مرتضیٰ کو شہید کیا گیا۔ یہ شہید کرنے والے رافضی کہلاتے ہیں۔

مرجئہ

مرجیہ وہ لوگ تھے جو پہلے فتنے (شہادتِ عثمان سے صلح حسن و معاویہ) اور دوسرے فتنے (شہادتِ حسین سے شہادتِ عبداللٰہ بن زبیر تک) کے خون خرابے سے اس قدر بددل ہوئے کہ تقدیر کے عقیدے میں انتہاء پسندی کا شکار ہوگئے اور بنوامیہ کے ظلم کو خدا کی رضا اور اپنی تقدیر قرار دے کر برداشت کرنے اور خارجیہ یا امامیہ یا راسخ العقیدہ اہلسنت کی طرح سیاسی و سماجی حالات کی ابتری پر بے چین ہوکر اقدامات اٹھانے سے منع کرنے لگے۔ مرجئہ ایک ایسا فرقہ ہے جو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ ایمان کا تعلق محض قول اور زبان سے ہے عمل کا اس میں دخل نہیں مرجئہ کہتے ہیں کہ ایمان کے بعد کوئی گناہ مضر نہیں اور کسی مومن کو آگ کا عذاب نہیں ہوگا ابو جعفر طبری تہذیب الآثار میں فرماتے ہیں

    فَأَمَّا الْمُرْجِئَةُ الْيَوْمَ فَهُمْ قَوْمٌ يَقُولُونَ: الْإِيمَانُ قَوْلٌ بِلَا عَمِلٍ، فَلَا تُجَالِسُوهُمْ، وَلَا تُؤَاكِلُوهُمْ، وَلَا تُشَارِبُوهُمْ، وَلَا تُصَلُّوا مَعَهُمْ، وَلَا     تُصَلُّوا عَلَيْهِم
آج کل مرجئہ ایسے گروہ کو کہا جاتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ایمان بغیر عمل کے محض قول (کلمہ شہادت) کا نام ہے لہذا نہ تم 
ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھو نہ ان کے ساتھ کھاؤ پیو نہ ان سے ملاقات کرو نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو اور نہ ان کی نماز جنازہ میں شریک ہو۔
شیخ ابن تیمیہ مرجئہ کے متعلق کہتے ہیں
           ایمان دل کی تصدیق اور زبان کے اقرار کو کہتے ہیں۔ اور اعمال کو اس میں سے نہیں(شمارکرتے)ان مرجئہ فقہاءمیں سے ایک گروہ کوفہ کے فقہاِ اور عابد لوگوں میں سے بھی تھا۔ مگران کا قول جہم بن صفوان کے قول کی طرح نہ تھا،وہ جانتے تھے کہ اگر قدرت رکھنے کے باوجودانسان زبان سے ایمان کا اقرارنہیں کرتا۔ تو وہ مومن نہیں ہوسکتااور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ابلیس اور فرعون دل سے تصدیق کرنے باوجودکافرتھے۔ لیکن اگر وہ دل کے اعمال کو ایمان میں داخل نہ کرتے تو ان کو جہم بن صفوان کا قول لازم آتا،وہ عمل کی وجہ سے ایمان کے بڑھنے اورگھٹنے کے قائل بھی نہیں ہیں۔ لیکن اتنا وہ کہتے ہیں کہ:ایمان کا بڑھنا شریعت کے مکمل ہونے سے پہلے تھا اس کا مطلب(ان کے ہاں) یہ ہے کہ اﷲنے جب بھی کوئی آیت نازل کی اس کی تصدیق واجب ہوئی۔ تویہ تصدیق اس تصدیق میں ضم ہو گئی،جو پہلے سے تھی لیکن جب وہ چیزمکمل ہو گئی جو اﷲ نازل کر رہاتھاتو ان کے نزدیک ایمان میں تفاضل باقی نہ رہا،بلکہ تمام لوگوں کا ایمان برابر ہوا)چاہے( سابقین اولین جیسے ابوبکرو عمر کا ایمان یافاجر(اورظالم)جیسے حجاج اور ابو مسلم الخراسانی وغیرہ کا ایمان ان کے نزدیک برابر ہے

Comments