قرآن میں نتیجہ خیزی کی ضمانت اور امیت صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلّم .

 

قرآن میں نتیجہ خیزی کی ضمانت اور امیت صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلّم .

قرآن کریم اللہ رب العزت کا لاریب کلام ہے-یہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور انسان کے ذاتی،اخلاقی،سماجی،معاشرتی،معاشی،قانونی اور زندگی کے دیگر پہلوؤں پر رہنمائی فراہم کرتا ہے-انسان کی پیدائش اور اس کائنات کی پیدائش،یہ ایسے موضوعات ہیں جو فلسفیوں، سائنس دانوں،مذہبی دانشوروں سمیت مختلف شعبہ جات میں انسان کے ہاں ہمیشہ سے مقبول رہے ہیں-جدید دور میں علم کے دیگر شعبہ جات کے مقابلے میں سائنس کو زیادہ پذیرائی ملی ہے اور سائنسی بنیادو ں پر مرتب ہونے والے اس کے انکشافات بہت حد تک  قابلِ بھروسہ سمجھے جاتے ہیں-اگرچہ ہر دور میں سائنس ارتقاء پذیر رہتی ہے جس کے سبب  بسا اوقات اس کے انکشافات میں بڑے پیمانے پر تبدیلی واقع ہوتی ہے تاہم اس سے توقع کی جاتی ہے کہ یہ کائنات کے چھپے ہوئے گوشوں سے پردہ اٹھاتی رہے  اور بے شمار زیرِ بحث سوالات کا تسلی بخش اور تجربات و مشاہدات پر مبنی جوابات دے-اگرچہ یہ تجربات بذاتِ خود بھی ارتقاء پذیر بلکہ ’’غیر دوامی و غیر مستقل‘‘ رہتے ہیں-

انسان اور کائنات کی تخلیق کے متعلق بھی عصرِ حاضر میں سائنسی جوابات کو زیادہ تر قابلِ بھروسہ سمجھا جاتا ہے یہ جوابات انہی سائنسی قوانین کی روشنی میں مرتب کئے گئے ہیں جن قوانین کا جادو ہماری روزمرہ زندگی میں سر چڑھ کر بولتا ہے-چاہے وہ ’’ڈی این اے‘‘کا تجزیہ ہو، موروثی بیماریوں کا علاج ہو،ماں کے پیٹ میں موجود بچے کی صحت و افزائش کے معاملات ہوں،خلاء میں موجود سیٹلائٹس کے ذریعہ راستہ کی تلاش ہو،ٹیلی کمیونیکیشن ہو،کمپیوٹرز ہوں یا دیگر جدید ایسی سائنسی ایجادات ہوں،انہوں نے اپنے قابلِ بھروسہ ہونے کا ثبوت اپنی کارکردگی سے دیا ہے-ایسے حالات میں مذہب میں موجود کائنات اور انسانی جسم یعنی سائنسی موضوعات سے متعلقہ اصولوں  کا سائنسی انکشافات کے ساتھ ہم آہنگی کا تجزیہ بہت اہمیت اختیار کر جاتا ہے-اگرچہ یہ غالب حقیقت ہے کہ سائنس کے اصول ارتقاء پذیری رہتے ہیں جبکہ کلامِ الٰہی حتمی علم کا حامل ہے -  اس لئے قرآن کے احکامات و انکشافات ’’دوامی و مستقل‘‘ ہیں -  تاہم یہ درست ہے کہ قرآن کریم میں کئی سائنسی امور پر راہنما اصول فراہم کئے گئے ہیں اور وقت کے ساتھ جوں جوں سائنسی نظریات پختگی اختیار کر ہے ہیں،توں توں یہ قرآن کریم کے فرمودات کی تصدیق کرتے چلے جا رہے ہیں- زیرِ نظر مضمون میں تخلیقِ کائنات اور تخلیقِ انسان کے متعلق جدید سائنسی نظریات،چند سائنسدانوں کی آراء اور قرآن کریم میں موجود انہی موضوعات کا مختصر  مطالعہ پیش کیا گیا ہے-

پیدائشِ حیات اور پانی:

قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے واضح فرمایا:

’’وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآئِ کُلَّ شَیْئٍ حَیٍّ ط اَفَـلَا یُؤْمِنُوْنَ

’’اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان لائیں گے ‘‘-

یعنی تمام جاندار اشیاء کی ابتدا پانی  سے کی گئی ہےاور یہ اصول بھی آج کے موجودہ سائنسی نظریات کےلئے راہنما اصول ہے جو یہ ماننے پر مجبور ہوئے ہیں کہ تمام تر زندگی کی موجودگی کےلئے پانی کی موجودگی اور اس سے تعلق لازم ہے-

زمین پر زندگی کی ابتداء کے متعلق غالب سائنسی نظریہ جن بنیادی قوانین پر قائم ہے ان میں ایک پانی کی موجودگی ہے جیسا کہ  پروفیسر ڈیلتوو مولر (Detlev  Möller) کہتے ہیں:

’’ زندگی کی جس حالت کو ہم جانتے ہیں اس کےلئے ایک بنیادی ضرورت سیارہ کی سطح پر (یا نیچے) پانی کی موجودگی ہے ‘‘-

برٹش بائیو کیمسٹ ڈاکٹر نِک لین(Nick Lane) کے مطابق:

’’ایسا بالکل ممکن ہے کہ آج تمام زندہ خلیوں کی عجیب بائیو جینیٹک خصوصیات کا تعلق چٹانوں،پانی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ میں تلاش کر لیا جائے ‘‘-

یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنی نشانی بیان فرمائی مگر ان امور کی تفصیل انسان کے لئے چھوڑی گئی ہے کہ اپنی سمجھ بوجھ اور عقل کو استعمال کرتے ہوئے اللہ رب العزت کی مخلوق کے متعلق علم حاصل کرے -یہ علم انسان کے ایمان میں اضافہ کا ہی باعث بنتا ہے بشرطیکہ اس کی حدود و قیود اور دائرہ کار کو پرکھتے ہوئے ان حقائق کا مطالعہ کیا جائے اور ان سے سبق حاصل کیا جائے-

زمانہ قدیم میں یہ ایک غالب امر  سمجھا جاتا تھا کہ پیدا ہونے والے بچے کی جنس کا تعین دراصل ماں کی خاصیت ہے حتیٰ کہ ابھی بھی بعض لوگ اسی بات پر یقین رکھتے ہیں جبکہ جدید سائنس نے ثابت کیا ہے کہ مادہ یا نر کی خاصیت کا اختیار باپ کے جسم میں ودیت کیا گیا ہے-قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے فرمایا:

’’وَ اَنَّہٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰیo مِنْ نُّطْفَۃٍ اِذَا تُمْنٰی

’’اور یہ کہ اُسی نے نَر اور مادہ دو قِسموں کو پیدا کیا-نطفہ (ایک تولیدی قطرہ) سے جب کہ وہ (رَحمِ مادہ میں) ٹپکایا جاتا ہے‘‘-

ماں کے پیٹ میں پیدائش کے مراحل کے متعلق جدید سائنسی علوم کا کہنا ہے کہ  سب سے پہلے نطفہ ٹھہرتا ہے جس سے بچے کی پیدائش کی ابتدا ہوتی ہے-ماہرِ جینیات ’جان لانگ مین‘اپنی کتاب ’’Medical Embryology‘‘میں تحریر کرتے ہیں

’’انسان کی نشونما فرٹیلائزیشن سے شروع ہوتی ہے،ایک ایسا سلسلہ جس میں دو نہایت خاص خلیے یعنی نر نطفہ اور مادہ نطفہ مل کر نیا وجود یعنی زائیگوٹ بناتے ہیں‘‘-

پروفیسر ’کیتھ ایل موور‘ اپنی کتاب ’’Essentials of Human Embryology‘‘ میں لکھتے ہیں :

’’فرٹیلائزیشن ایسے واقعات کا تسلسل ہے جو نر اور مادہ خلیوں (سپرم اور دوسرے مرحلہ کا بیضہ)کے ملنے سے شروع ہوتا ہے  اور اس کا اختتام ان کے نیوکلیئس کے ملنے  اور  ان کے کروموسومز کے انضمام  سے نئے خلیہ کی تخلیق پر ہوتا ہے-یہ زائیگوٹ ایک بڑا خلیہ(دو خلیوں کا انضمام) ہوتاہے جو انسانی جسم کی نشونما کی ابتدا ہے‘‘-

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:

’’وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰـلَۃٍ مِّنْ طِیْنٍo ثُمَّ جَعَلْنٰـہُ نُطْفَۃً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍoثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوْنَا الْعِظٰـمَ لَحْمًاق ثُمَّ اَنْشَاْنٰـہُ خَلْقًا اٰخَرَط فَتَبٰـرَکَ اﷲُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ

’’اور بے شک ہم نے انسان کی تخلیق (کی ابتداء) مٹی (کے کیمیائی اجزاء) کے خلاصہ سے فرمائی-پھر اسے نطفہ (تولیدی قطرہ) بنا کر ایک مضبوط جگہ (رحم مادر) میں رکھا-پھر ہم نے اس نطفہ کو (رحمِ مادر کے اندر جونک کی صورت میں) معلّق وجود بنا دیا، پھر ہم نے اس معلّق وجود کو ایک (ایسا) لوتھڑا بنا دیا جو دانتوں سے چبایا ہوا لگتا ہے، پھر ہم نے اس لوتھڑے سے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنایا، پھر ہم نے ان ہڈیوں پر گوشت (اور پٹھے) چڑھائے، پھر ہم نے اسے تخلیق کی دوسری صورت میں (بدل کر تدریجاً) نشوونما دی، پھر (اس) اﷲ نے (اسے) بڑھا (کر محکم وجود بنا) دیا جو سب سے بہتر پیدا فرمانے والا ہے‘‘-

یعنی اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں انسانی جسم کی پیدائش کے اصول بیان فرمائے-یہ قابلِ غور بات ہے کہ ان عوامل کی سائنسی تصدیق نزول قرآن کے بہت بعد میں ممکن ہوئی-تاہم جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملنے والی معلومات نے انہی امور کی تصدیق کی-’پروفیسر کیتھ موور‘ انہی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’انسانی نشونما سے متعلق قرآن مجید کی آیات کی توضیح ساتویں صدی عیسوی میں ممکن نہیں ہوئی ہو گی حتیٰ کہ ایک سو سال قبل بھی -اب ہم ان کی توضیح کر سکتے ہیں کیونکہ جینیات سے متعلق جدید سائنس نے ہمیں نئی سمجھ بوجھ دی ہے-بلاشک و شبہ  قرآن کریم میں انسانی نشونما سے متعلق دیگر آیات بھی ہیں جنہیں مستقبل میں سمجھا جا سکے گا جوں جوں ہمارا علم بڑھے گا‘‘-

پروفیسر ڈاکٹر ٹی وی این پرساد‘ کہتے ہیں:

’’(قرآن کریم میں) بہت زیادہ صداقت ہے اور ڈاکٹر موور کی طرح میرے ذہن میں کوئی الجھن نہیں ہے کہ یہ خدائی الہام یا وحی ہے جس نےانہیں(نبی اکرم(ﷺ)کو) ان فرمودات تک لایا‘‘-

تھامس جیفرسن یونیورسٹی، پنشلوینیا،امریکہ کے  پروفیسر ڈاکٹر ای مارشل جانسن‘ کہتے ہیں:

’’قرآن نہ صرف (انسان کی) بیرونی حالت کی نشونما کے متعلق بیان کرتا ہے بلکہ اندرونی مراحل پر بھی زور دیتا ہے،مضغہ کے اندرونی مراحل،اس کی پیدائش اور نشونما اور اس دوران اہم تبدیلیوں پر زور دیتا ہے جنہیں جدید سائنس نے تسلیم کیا ہے‘‘-

احمد ﷺ (570ء-632ء) دنیاوی تاریخ میں اہم ترین شخصیت کے طور پرنمودار ہوئے اور انکی یہ خصوصیت عالمی طور (مسلمانوں اور غیرمسلموں دونوں جانب) مصدقہ طور پر تسلیم شدہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابوالقاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیاءاکرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جنکو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل انسانوں کی جانب آخری بار پہنچانے کیلیۓ دنیا میں بھیجا۔ دائرۃ المعارف بریطانیکا کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔ 570

ء (بعض روایات میں 571ء) مکہ میں پیدا ہونے والے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمرمیں نازل ہوئی۔ انکا وصال تریسٹھ (63) سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا، مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج کے سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف کے والد کا انتقال انکی دنیا میں آمد سے قریبا چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب انکی عمر چھ سال تھی تو ان کی والدہ آمنہ بنت وہب بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جسکا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا حضرت عبدالمطلب نے رکھا تھا۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمت اللعالمین اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے القابات سے بھی پکارا جاتا ہے۔ نبوت کے اظہار سے قبل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اپنی سچائی ، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عرب قبائل میں صادق اور امین کے القابات سے پہچانے جانے لگے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنا کثیر وقت مکہ سے باہر واقع ایک غار میں جا کر عبادت میں صرف کرتے تھے اس غار کو غار حرا کہا جاتا ہے۔ یہاں پر 610ء میں ایک روز جبرائیل علیہ السلام (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اللہ کا پیغام دیا۔ جبرائیل علیہ سلام نے اللہ کی جانب سے جو پہلا پیغام انسان کو پہنچایا وہ یہ ہے

Comments