اجتہاد سے کیا مراد ہے؟
اجتہاد
قرآن مجید میں اجتہاد
کا لفظ استعمال نہیں ہوا لیکن مفکرین جدید قرآن مجید کی اس آیت سے استنباط یا
اجتہاد کرتے ہیں ارشاد قرآنی ہے۔’’جو جہد کرتے ہیں ہم انہیں اپنا رستہ دکھاتے
ہیں‘‘۔اسی طرح سورۂ بقرہ میں ارشاد ہوتا ہے جس میں کتاب اور حکمت کو عطیہ
پروردگار بیان کیا گیا ایک مقام پر حکمت کو خیر کثیر کہا گیا قرآن مجید نے یہ بھی
ارشاد فرمایا کہ میری آیات مفکرین کیلئے ہیں اہل علم و دانش کا بلند مرتبہ بھی
درج قرآن ہے۔
اجتہاد کی لغوی و اصطلاحی تحقیق
اجتہاد کا لفظ جہد سے ہے جہد کے
لغوی معنی کوشش کرنے کے ہیں جہد ہی سے جہاد بھی ہے مجاہد، مجتہد اور مجدد بھی جہد
سے ماخوذ ہیں اجتہاد سے یہ مراد لی جاتی ہے کہ کوئی ایسا مسئلہ جو قرآن و سنت یا
حدیث میں مذکور نہ ہو تو زمانے کے تقاضوں کے مطابق اس کا حل بتایا جائے جو روح
اسلام سے متصادم نہ ہو بلکہ روح اسلام کے عین مطابق ہو، اجتہاد مسلمات پر نہیں
ہوتا مثلاً قرآن مجید میں نماز پڑھنے کا حکم ہے اس پر اجتہاد نہیں ہوسکتا کہ نماز
پڑھی جائے یا نہ پڑھی جائے۔ نماز پنجگانہ کی بجائے مصروفیت زمانہ کو مدنظر رکھتے
ہوئے صرف دن میں دوبار نماز پڑھ لی جائے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ نماز پنجگانہ
ازروئے قرآن و سنت ثابت ہے البتہ اجتہاد یہ ہوسکتا ہے کہ مخصوص حالات میں نماز
قضا پڑھی جاسکتی ہے علماء اجتہاد کی عموماً اس واقعہ سے اخذ کرتے ہیں جو اکثر
احادیث کی کتابوں میں درج ہے ترمذی،نسائی اور ابوداؤد نے یہ روایت نقل کی ہے کہ
جب پیغمبرؐ نے حضرت معاذؓ بن جبل کو یمن کا گورنر مقرر کیا تو آپ نے اُن سے پوچھا
کہ لوگوں میں فیصلے کیسے کریں گے تو صحابی رسولؐ نے جواب دیا۔قرآن کیمطابق،آپؐ
نے فرمایا کہ اگر وہ مسئلہ قرآن میں مذکور نہ ہوا تو پھر ۔فرمایا آپ ؐ کی سنت
کیمطابق فیصلہ کروں گا حضورؐ نے فرمایا کہ اگر وہ مسئلہ سُنت میں بھی نہ ملا تو
پھر کیا کرو گے۔جواب دیا۔ پھر اپنی عقل کا استعمال کرکے رائے قائم کرونگا حضرت
معاذؓ بن جبل نے یوں کہا ترجمہ‘‘ یعنی ’’بغیر کسی جھجک کے اپنی رائے قائم
کرونگا۔‘‘ یہ الفاظ سن کر حضور ؐ نے انکے سینہ پر تھپکی دی اور اُن کیلئے دعائے
خیر فرمائی۔یہ واقعہ اجتہاد پر دلالت رکھتا ہے مسلمانوں نے مجتہد، مفتی اور محدث
پیدا کئے جنہوںنے ہر زمانے میں قرآن و سُنت کی روشنی میں زندگی کے مسائل کا حل
بتایا اور جہاں کوئی مسئلہ نیا پیدا ہوا اُسے دلیل و استدلال کی روشنی میں حل کیا
قرآن مجید میں عقل کے استعمال کو ترجیح دی گئی ہے ’’افلا یعقلون‘‘ دلیل عظمت عقل
ہے قرآن نے تفسیر باالرائے اور متشابہات پر بحث و تمحیص کی مذمت کی ہے آیات
محکمات کو اُم الکتاب کہا ہے ہمارے علماء اور فقہا کی اکثریت نے عبادات پر زیادہ
بحث کی ہے جبکہ معاملات سے صرف نظر کیا ہے امریکہ، انگلستان اور کینیڈا میں مختلف
اسلامی مراکز اور یونیورسٹیوں میں راقم پر مسلم اور غیر مسلم دانشوروں نے اسلام کی
ثقافتی ، سیاسی اور اقتصادی نظام پر ایسے ایسے سوالات کیے جن کا ہمارے اکثر علماء
کے پاس کافی و شافی عقلی استدلال نہیں ہے۔اہل سنت کے مکتب میں امام ابو حنیفہ
،امام مالک،امام حنبل اور امام شافعی کے بعد درا اجتہاد بند ہے اُنکے فتوؤں کو
حرف آخر سمجھا جاتا ہے مثال کے طور پر فقہ حنفیہ میں خاندانی منصوبہ بندی کی
ممانعت ہے آج کے حالات میں جن ممالک میں وسائل پیداوار اور ذرائع آمدن کم اور
آبادی زیادہ ہے وہاں کی حکومتیں اور علماء جدید زمانے کے تقاضوں اور ضرورتوں کے
پیش نظر اس قسم کے مسائل کو اجتہاد نقطہ نظر سے دیکھ رہے ہیں شیعہ مکتب فکر میں
امام جعفر صادق کا فتویٰ حرف آخر ہے کیونکہ ان کے مسلک کے مطابق امام بھی …کی طرح
مامور من اﷲ ہوتا ہے۔فقہ قدیم نے تقلید کو فروغ دیا۔ یہ لوگ زندگی کے مسائل کے حل
اپنے اپنے فقہی امام کے فتوؤں میں تلاش کرنے لگے۔ مقلدین کی امت جلوہ گر
ہوئی۔اسلام کو علماء اور فقہا کے حوالے کرکے عام مسلمان نذر تقلید ہوا ۔یہ دُرست کہ
بیماری کا علاج ڈاکٹر کرسکتا ہے انجینئر نہیں۔یہ دُرست کہ سڑک یا عمارت کا نقشہ
انجینئر بنا سکتا ہے ڈاکٹر نہیں۔ لہٰذا یہ بجاکہ دینی امور و احکامات میں علمائے
دین کی رائے کو ہی ترجیح دی جائیگی نہ کوئی عوام کی رائے کو معتبر سمجھا جائیگا
لیکن دین کو شعبہ یا ملازمت نہیں۔نماز پنجگانہ، نماز جمعہ، نماز عیدین، نماز جنازہ
اورنکاح پڑھانا ہر مسلمان کو آنا چاہیے تاکہ اسلام کو اپنی زندگیوں میں سجایا اور
بسایا جائے۔
Comments
Post a Comment