علمائے حق اور جد و جہد پاکستان

 
علمائے حق اور پاکستان
پاکستان ایک آزاد مملکت ہے جو دو قومی نظریہ کے تحت وجود میں آئی  دوقومی نظریہ کی بنیاد  سب سے پہلے سر سید احمد  نے رکھی ،بعد آزاں علمہ محمد اقبال کی ہمدردی اور مسلمان ہونے کے ناطے  دو قومی نظریہ کے تحت   مسلمانوں کے لئے الگ ریاست کا تصور پیش کیا  یوں قائدا عظم محمد علی جناح کی انتھک جدوجہد و محنت اور قدرتی صلاحیت کی وجہ سے بلآخر 14اگست1947ء ،27 رمضان المبارک کو پاکستان دنیا کہ نقشہ پر ابھرا ۔
ہندوستان میں تحریک آزادی سے لے کر قیام پاکستان تک علماء حق نے جو کردار ادا کیا ہے وہ تاریخ کا ایک درخشندہ باب ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے تاریکیوں کے ہجوم میں روشنیوں کا مینارہ ہے
تحریک پاکستان کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں مشائخ عظام و علمائے کرام کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ برصغیر کی مختلف خانقاہوں سے وابستہ مشائخ عظام نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کا بھر پور ساتھ دیا تھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ کفر و شرک کا گڑھ ہندوستان میں کلمہ طیبہ کی بنیاد پر پاکستان کا قیام اولیائے کرام کی صدیوں پر محیط ریاضتوں کا ثمر شیریں ہے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ان عظیم ہستیوں نے اس خطے میں دین اسلام کی نشر و اشاعت کی جبکہ ان کے عقیدت مندوں نے مسلمانوں کے اسلامی تشخص کی داعی آل انڈیا مسلم لیگ کی جدوجہد میں ہراول دستے کا کردارادا کیا۔ دراصل انگریز حکومت کی طرف سے ہندوئوں کی اندھا دھند سرپرستی کے باعث مسلمانوں کی سیاسی، معاشی اور سماجی زندگی پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے تھے اور اس امر کا خطرہ سر پر منڈلانے لگا تھا کہ خدانخواستہ اسلامی عقائد واقدار اور ثقافت و روایات کہیں ہندو معاشرے میں اپنی پہچان نہ کھو بیٹھیں۔
یہ صورتحال مشائخ عظام اور علمائے حق کیلئے ایک لمحۂ فکریہ تھی۔ وہ صدق دل سے محسوس کرتے تھے کہ ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کا اسلامی تشخص صرف اسی صورت محفوظ رہ سکتا ہے جب یہاں کے مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک علیحدہ اسلامی ریاست تشکیل دی جائے۔ چنانچہ جب قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں مسلم لیگ نے مارچ1940ء کے تاریخ ساز اجلاس میں قیام پاکستان کا نعرۂ مستانہ بلند کیا تو گویا مشائخ عظام کی ملی آرزوئوں کو ایک عملی تعبیر مل گئی اوروہ نہ صرف بذات خود بلکہ ان خانقاہوں کے وابستگان بھی بابائے قوم کے دست و بازو بن گئے۔ انہوں نے قائداعظمؒ کے تدبر اور دُور اندیشی پر اعتماد کرتے ہوئے تحریک پاکستان کو پوری دل جمعی سے آگے بڑھایا۔ جدوجہد آزادی میں ان جلیل القدر ہستیوں کی خدمات اور کارنامے ہماری ملی و قومی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہیں۔ انہوںنے جہاں دو قومی نظریے کی حقانیت کو دلائل و براہین سے ثابت کیا، وہاں قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ذات پر کفر کے فتوے لگانے والوں کا بھی کڑااحتساب کیا۔

تقریباتِ یوم پاکستان کے سلسے میں ایوان کارکنان تحریک پاکستان‘ لاہور میں ایک لیکچر بعنوان’’تحریک پاکستان میں علماء و مشائخ کا کردار‘‘ کا انعقاد کیا گیاجس میں پیر سید منور حسین شاہ جماعتی نے برصغیر کی مختلف خانقاہوں کے مشائخ عظام کی تحریک پاکستان میں خدمات کا تفصیلی تذکرہ کیا اور بطور خاص سنو سی ٔ ہندحضرت امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ صاحب محدث اعظم علی پوریؒ کی خدمات پر روشنی ڈالی۔ان کا کہنا تھا کہ حضرت امیر ملت ؒنے ہندوستان کی 475خانقاہوں کے مشائخ عظام کو خطوط ارسال کئے جن میں لکھا تھا کہ اس وقت آستانوں میں مقیم رہ کر اللہ اللہ کرنے کا نہیں بلکہ میدان عمل میں نکلنے کا وقت ہے۔ انہوں نے خود بھی پورے ہندوستان کے دورے کئے اور قیام پاکستان کے حق میں جلسے منعقد کئے۔ آپ نے ایک فتویٰ بھی جاری کیا جس میں کہا گیا کہ جو مسلمان مسلم لیگ کو ووٹ نہ دےاس کا جنازہ نہ پڑھو اور اسے مسلمانوں کی قبروں میں دفن نہ کرو۔

Comments