انسان کی عظمت اور فضیلت
انسان کی
تخلیق و عظمت
اللہ تعالی
تمام انسانیت کا خالق ومالک اور پرور دگار
ہے ۔ اس کا نظام ِ ربوبیت کائنات کے ہر ہر وجود کی انتہا ئی سادہ اور پست ترین
حالت سے اٹھا کر درجہ بدرجہ منتہا ئے کمال تک پہچا رہا ہے۔اس نے چاہا کہ میں
پہچانا جاوں چنانچہ اس نے امر کن سے یہ بسیط و عریض کائنات اور اس میں موجود مختلف
جہان پیدا فرمائے ۔آسمان تخلیق کئے ، ان کو بلندیاں عطا کیں۔فضائی طبقات
بنائیں ، انہیں وسعتیں عطاکیں ۔ناپیداکنا رسمند ربنائے ،انہیں تموج عطاکیا ۔پہاڑ
بنائے ،انہیں ہیبت وجلال سے نوازا ۔غرضیکہ
ہر ذی روح اور بے روح کو وجود عطاکیا۔ اور اس میں اپنی صفات و کمالات اور حسن و جمال کے ساتھ کسی نہ کسی پہلو کا عکس اتار دیا ۔
ارشاد
باری تعالی ہے
سنریہم
ایاتنا فی الافاق وفی انفسھم حتی یتبین لھم انہ الحق
ہم عنقریب
انہیں اپنی نشانیاں اطراف عالم میں اور خود ان کی ذاتوں میں دکھا دیں گے یہاں تک
کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ وہی حق ہے ۔
اللہ عزوجل
نے کائناتِ پست و بالا میں ہر سو اپنے حسن و جمال کے جلوے بکیھر دئیے اور بزم ہستی
کو اپنے حسن لازوال کا مظہر بنا دیا ۔ کائنات کے ہر ہر گوشے میں اس کی صفاتِ مطلقہ
کی جلوہ نمایاں اور اس کےجمال جہاں آرا کی رعنائیاں دامن ِ کش و قلب و نظر ہوئیں،
جب قدرت خدا وندی نے آرائش ِعالم کا سامان کرلیا اور یہ عالم رنگ و بو ہر طرح کی
حیات کے لیئے ساز گار ہو گیا تو مشیتَ
الہیہ نے چاہا کہ کسی ایسی ہستی کو خلعت وجود عطاکی جائے جس میں حسن و جمال ایزدی
کے تمام جلوے مجتمع ہوں چنانچہ اس ارادہ الوہیت کی تکمیل میں کار خانہٴ کائنات میں
انسان کو خلعتِ وجود عطا ہوئی۔ رب کائنات نے ارشاد فرمایا
لقد
خلقناالانسان فی احسن تقویم
بے شک ہم
انسان کو بہترین ﴿اعتدال و توازن والی﴾ ساخت میں پیدا فرمایا ہے۔
الہ تعالی
نے انسان کو اس انداز سے تخلیق فرمایا کہ ساری کائنات کے جملہ مظاہر حسن اس کے
پیکر میں سمٹ آئے ۔ اس کے اندر ملائکہ کی حقیقت بھی رکھ دی گئی اور حیوانات کی
حقیقت بھی ۔ انسان کو رب کائنات نے اپنے قہر و غضب کی مظہریت بھی عطاکی اور رافت و
محبت کی آئینہ داری بھی۔ غرضیکہ اسے عالم پست و بالا کے جملہ محامد و محاسن کا
مرقع بنا کر منصئہ شہود پر جلوہ گر کیا گیا۔
Comments
Post a Comment