کورونا ہوا سے پھیل رہا ہے ‘سائنس دانوں کے انکشاف نے دنیا کو چکرا دیا چھ ماہ گزرنے کے باوجود ماہرین درست تشخیص میں مکمل طور پر ناکام نظر ٓاتے ہیں
واشنگٹن
کورونا وائرس ہوا سے پھیل رہا ہے یہ
دعوی 12ملکوں کے239سائنس دانوں نے عالمی ادارہ صحت کے نام ایک خط میں کیا ہے
اس پہلے کہا رہا تھا کہ یہ وائرس کھانسنے یا
چھیکنے یا زور سے بولنے سے مریض سے منہ یا ناک سے خارج ہونے والے باریک محلول ذرات
سے یہ وائرس دوسرے شخص کو شکار کرتا ہے.
مگر اب بارہ ملکوں کے 239 سائنس
دانوں کا کہنا ہے کہ یہ وائرس ہوا کے ذریعے انفیکشن پھیلاتا ہے اور بند جگہوں پر
بھی اس سے بچنے کے لیے احتیاط کرنی چاہیے‘اس سے قبل سائنس دان یہ دعوی بھی کرچکے
ہیں کہ یہ وائرس نہیں درحقیقت بیکٹریا ہے تاہم 6ماہ گزرنے کے باوجود سائنس دان
ابھی تک اس کی مکمل تشخیص کرنے میں ناکام ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ”تکوں“سے ہی کام
چلارہے ہیں .
امریکی جریدے نیویارک ٹائمز کے مطابق12 ملکوں کے 239 سائنس
دانوں نے عالمی ادارہ صحت کے نام ایک کھلے خط میں کہا ہے کہ وہ کورونا وائرس
سے بچنے کے لیے اپنی ہدایات پر نظر ثانی کرے ایک سائنسی رسالے میں اس خط کے
مندرجات شائع کیے جائیں گے. سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس
ہوا سے پھیلتا ہے، یعنی وائرس کے ذرات بند جگہوں میں گردش کرتے ہیں اور سانس لیتے
ہوئے یہ ذرات انسانی جسم کے اندر جا سکتے ہیں جبکہ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے
وائرس سانس کے ذریعے ننھے ننھے قطروں کی شکل میں باہر نکلتے ہیں اور دوسرے شخص کو
شکار کرتے ہیں یعنی متاثرہ شخص کے کھانسنے اور چھیکنے سے یہ قطرے باہر آتے ہیں یہ
انتہائی چھوٹے اور باریک ہوتے ہیں ، اس لیے جلد ہوا میں مل جاتے ہیں.
![]() |
| Add caption |


Comments
Post a Comment